(۳۵۴۸۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : حدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ السُّورَۃُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : {أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ} حَتَّی بَلَغَ {ثم لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ} قَالُوا : أَیْ رَسُولَ اللہِ عَنْ أَیِّ نَعِیمٍ نُسْأَلُ ، إنَّمَا ہُمَا الأَسْوَدَانِ: الْمَائُ وَالتَّمْرُ، وَسُیُوفُنَا عَلَی رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ، فَعَنْ أَیِّ نَعِیمٍ نُسْأَلُ، قَالَ: إنَّ ذَلِکَ سَیَکُونُ۔
(احمد ۴۲۹۔ ھناد ۷۶۸)
(٣٥٤٨٦) حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ سورة { أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ۔ تا۔ ثم لَتُسْأَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ } نازل ہوئی تو لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول 5! ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا ؟ یہ صرف دو ہی ۔۔۔ نعمتیں ۔۔۔ ہیں۔ پانی اور کھجور۔ جبکہ ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن حاضر ہے۔ تو پھر کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا ؟ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ حالات عنقریب آجائیں گے۔