(۳۵۵۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مُسْلِمٍ الطَّحَّانِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِیِّ رَفَعَہُ ، قَالَ : یَا عَجَبًا کُلَّ الْعَجَبِ لِمُصَدِّقٍ بِدَارِ الْخُلُودِ وَہُوَ یَسْعَی لِدَارِ الْغُرُورِ ، یَا عَجَبًا کُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُخْتَالِ الْفَخُورِ وَإِنَّمَا خُلِقَ مِنْ نُطْفَۃٍ ، ثُمَّ یَعُودُ جِیفَۃً وَہُوَ بَیْنَ ذَلِکَ لاَ یَدْرِی مَا یُفْعَلُ بِہِ۔
(٣٥٥٠٣) حضرت ابوجعفر مدائنی سے روایت ہے وہ اس کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ہائے تعجب ! پورا تعجب ہے اس آدمی پر جو دارالخلود ۔۔۔ جنت ۔۔۔ کی تصدیق کرتا ہے لیکن محنت وہ دارالغرور ۔۔۔ دنیا ۔۔۔ کے لیے کرتا ہے۔ ہائے تعجب ! پورا تعجب ہے اس شخص پر جو فخر وتکبر کرتا ہے جبکہ وہ محض نطفہ کی پیداوار ہے پھر وہ مردار ہوجائے گا۔ اور اس دوران بھی وہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔