(۳۵۵۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : قالَتْ عَائِشَۃُ : إنْ کُنَّا لَنَمْکُثُ الشَّہْرَ ، أَوْ نِصْفَ الشَّہْرِ مَا یَدْخُلُ بَیْتَنَا نَارٌ لِمِصْبَاحٍ ، وَلاَ لِغَیْرِہِ ، فَقُلْتُ : بِأَیِّ شَیْئٍ کُنْتُمْ تَعِیشُونَ ، قَالَتْ : بِالأَسْوَدَیْنِ : الْمَائِ وَالتَّمْرِ ، وَکَانَ لَنَا جِیرَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ جَزَاہُمُ اللَّہُ خَیْرًا لَہُمْ مَنَائِحُ فَرُبَّمَا بَعَثُوا إلَیْنَا مِنْ أَلْبَانِہَا۔
(٣٥٥٤٤) حضرت قاسم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ پورا پورا مہینہ یا آدھا مہینہ اس حال میں ٹھہرے رہتے کہ ہمارے گھر میں کوئی آگ ۔۔۔ چراغ کی ہو یا غیر چراغ کی ۔۔۔ داخل نہ ہوتی۔ میں نے (قاسم سے) کہا۔ پھر تم لوگ کس چیز کے ذریعہ زندگی گزارتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا دو چیزوں کے ذریعہ۔ یعنی پانی اور کھجور۔ اور کچھ انصار ہمارے پڑوس میں تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ ان کے پاس اونٹنیاں تھیں تو بسا اوقات وہ ان اونٹنیوں کا دودھ ہماری طرف بھیج دیتے تھے۔