(۳۵۵۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالاَ : حدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابن کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْخَامَۃِ مِنَ الزَّرْعِ تَفِیئُہَا الرِّیحُ تَصْرَعُہَا مَرَّۃً وَتَعْدِلُہَا أُخْرَی حَتَّی تَہِیجَ وَمَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الأَرْزَۃِ الْمُجَذَّبَۃِ عَلَی أَصْلِہَا ، لاَ یَفِیئُہَا شَیْئٌ حَتَّی یَکُونَ انْجِعَافُہَا مَرَّۃً وَاحِدَۃً۔
(٣٥٥٥٣) حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال، کچی کھیتی کی سی ہے کہ ہوائیں اس کو حرکت دیتی ہیں، کبھی اس کو ٹیڑھا کرتی ہیں اور کبھی اس کو سیدھا کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ زرد ہوجاتی ہے اور کافر کی مثال، اس صنوبر کی سی ہے جو زمین میں موجود اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔ کوئی شے اس کو حرکت نہیں دے سکتی یہاں تک کہ وہ ایک ہی مرتبہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔