(۳۵۵۶۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبِیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ عَلَیَّ الْقُرْآنَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَقْرَأُ عَلَیْک وَعَلَیْک أُنْزِلَ ، قَالَ : إنِّی أَشْتَہِی أَنْ أَسْمَعَہُ مِنْ غَیْرِی ، قَالَ : فَقَرَأْت النِّسَائَ حَتَّی إذَا بَلَغْت : {فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا} رَفَعْت رَأْسِی ، أَوْ غَمَزَنِی رَجُلٌ إِلَی جَنْبِی فَرَأَیْتُ دُمُوعَہُ تَسِیلُ۔
(٣٥٥٦٠) حضرت عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے کہا : ” تم مجھے قرآن سناؤ۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ 5! کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پڑھ کر سناؤں ؟ حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی سے قرآن سنوں۔ راوی کہتے ہیں پس میں نے سورة نساء پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ جب میں { فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا } پر پہنچا میں نے اپنا سر اٹھایا ۔۔۔ یا مجھے پہلو میں بیٹھے آدمی نے متوجہ کیا ۔۔۔ تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔