(۳۵۵۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : وَاللہِ لَئِنْ کَانَ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ تَرَکَا ہَذَا الْمَالَ وَہُوَ یَحِلُّ لَہُمَا شَیْئٌ مِنْہُ ، لَقَدْ غُبِنَا وَنَقَصَ رَأْیُہُمَا ، وَایْمُ اللہِ مَا کَانَا بِمَغْبُونَیْنِ ، وَلاَ نَاقِصِی الرَّأْی ، وَلَئِنْ کَانَا امْرَأَیْنِ یَحْرُمُ عَلَیْہِمَا مِنْ ہَذَا الْمَالِ الَّذِی أَصَبْنَا بَعْدَہُمَا لَقَدْ ہَلَکْنَا ، وَایْمُ اللہِ مَا الْوَہْمُ إِلاَّ مِنْ قِبَلِنَا۔
(٣٥٥٧٩) حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص نے ارشاد فرمایا : خدا کی قسم ! اگر حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) نے اس مال کو چھوڑا ہے جبکہ اس مال کا کچھ حصہ تو ان کے لیے حلال تھا۔ تو پھر ان دونوں کو دھوکا ہوا ہے یا ان کی رائے میں نقص تھا۔ (پھر فرمایا) خدا کی قسم ! وہ دونوں دھوکا کھائے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی وہ ناقص الرائے تھے۔ اور اگر یہ دونوں حضرات ایسے تھے کہ ان پر ہمیں ان کے بعد ملنے والا حرام تھا تو پھر یقیناً ہم ہلاک ہوگئے اور خدا کی قسم ! یہ وہم ہمارے حق میں ہی ہے۔