(۳۵۵۸۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إِلَی أَبِی مُوسَی : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أَسْعَدَ الرُّعَاۃِ مَنْ سَعِدَتْ بِہِ رَعِیَّتُہُ وَإِنَّ أَشْقَی الرُّعَاۃِ عِنْدَ اللہِ مَنْ شَقِیَتْ بِہِ رَعِیَّتُہُ ، وَإِیَّاکَ أَنْ تَرْتَعَ فَیَرْتَعَ عُمَّالُک ، فَیَکُونَ مِثْلُک عِنْدَ اللہِ مِثْلُ الْبَہِیمَۃِ ، نَظَرَتْ إِلَی خَضِرَۃٍ مِنَ الأَرْضِ فَرَتَعَتْ فِیہَا تَبْتَغِی بِذَلِکَ السَّمْنِ ، وَإِنَّمَا حَتْفُہَا فِی سَمْنِہَا ، وَالسَّلاَمُ عَلَیْک۔
(٣٥٥٨٩) حضرت سعید بن ابی بردہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ کی طرف خط لکھا : اما بعد ! پس بیشک خوش بخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعیت خوشحال ہو اور یقیناً اللہ کے ہاں بدبخت ترین چرواہا (ذمہ دار) وہ ہے جس سے اس کی رعیت بدحال ہو۔ خبردار ! تم اس بات سے بچو کہ تم (غلط جگہ) چرنے لگو پھر تمہارے عمال بھی چرنے لگیں۔ پس تمہاری مثال اللہ کے ہاں جانور کی سی ہوگی جو زمین کے سبزے کی طرف دیکھتا ہے تو اس میں چرنے لگتا ہے اور اس کا مقصد موٹاپا ہوتا ہے جبکہ اس کے موٹاپے میں ہی اس کی موت ہے۔ والسلام علیک