(۳۵۵۹۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یَمْشِی فِی طَرِیقٍ وَمَعَہُ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ فَرَأَی جَارِیَۃً مَہْزُولَۃً تَطِیشُ مَرَّۃً وَتَقُومُ أُخْرَی ، فَقَالَ : ہَا بُؤْسَ لِہَذِہِ ہَاہْ ، مَنْ یَعْرِفُ تَیَّاہُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : ہَذِہِ وَاللہِ إحْدَی بَنَاتِکَ ، قَالَ : بَنَاتِی ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَنْ ہِیَ ، قَالَ : بِنْتُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَیْلَک یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، أَہْلَکْتہَا ہَزْلاً ، قَالَ : مَا نَصْنَعُ ، مَنَعْتنَا مَا عِنْدَکَ ، فَنَظَرَ إلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا عِنْدِی عَزَّکَ أَنْ تَکْسِبَ لِبَنَاتِکَ کَمَا تَکْسِبُ الأَقْوَامُ لاَ وَاللہِ مَا لَک عِنْدِی إِلاَّ سَہْمُک مَعَ الْمُسْلِمِینَ۔
(٣٥٥٩٩) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) راستہ میں چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بھی تھے تو حضرت عمر (رض) نے ایک کمزور سی بچی کو دیکھا جو کبھی اٹھتی اور کبھی گرتی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہائے، اس کی بدحالی۔ ہائے ! اس کو کون جانتا ہے ؟ حضرت عبداللہ (رض) نے عرض کیا۔ خدا کی قسم ! یہ آپ کی ہی ایک بچی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا۔ میری بچیوں میں سے۔ حضرت عبداللہ نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر (رض) نے پوچھا یہ کون ہے ؟ حضرت عبداللہ نے کہا عبداللہ بن عمر (رض) کی بچی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا۔ اے عبداللہ بن عمر ! تم اس کو کمزوری سے ہلاک کرو گے۔ عبداللہ نے کہا ہم کیا کریں جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کو آپ نے ہم سے روک رکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے حضرت عبداللہ (رض) کو دیکھا اور فرمایا : میرے پاس کیا ہے ؟ تمہیں یہ بات شاق گزرتی ہے کہ جس طرح دیگر لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے کماتے ہیں تم بھی اپنی بیٹیوں کے لیے کماؤ۔ نہیں، خدا کی قسم ! میرے پاس تمہارے لیے دیگر مسلمانوں کے ساتھ (برابر کا) حصہ ہی ہے۔