(۳۵۶۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وَابْنُ إدْرِیسَ ، وَابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِی حُیَیَّۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إنَّ الْعَبْدَ إذَا تَوَاضَعَ لِلَّہِ رَفَعَ اللَّہُ حِکْمَتَہُ ، وَقَالَ : انْتَعِشْ نَعَشَکَ اللَّہُ ، فَہُوَ فِی نَفْسِہِ صَغِیرٌ وَفِی أَنْفُسِ النَّاسِ کَبِیرٌ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ إذَا تَعَظَّمَ وَعَدَا طَوْرَہُ وہَصَہُ اللَّہُ إِلَی الأَرْضِ ، وَقَالَ اخْسَأْ خَسَأَک اللَّہُ ، فَہُوَ فِی نَفْسِہِ کَبِیرٌ وَفِی أَنْفُسِ النَّاسِ صَغِیرٌ حَتَّی لَہُوَ أَحْقَرُ عِنْدَہُ مِنْ خِنْزِیرٍ۔
(٣٥٦٠٢) حضرت عبید اللہ بن عدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بیشک بندہ جب اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی شان بلند کردیتے ہیں اور فرماتے ہیں : اٹھ کھڑا ہو، اللہ تجھے بلند کرے۔ پس یہ آدمی اپنے آپ میں چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کے ہاں بڑا ہوتا ہے۔ اور بیشک بندہ بڑائی اختیار کرتا ہے اور اپنی حد کو تجاوز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو زمین پر پٹخ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں : ذلیل ہوجا۔ اللہ نے تجھے ذلیل کیا۔ پس یہ آدمی اپنے آپ میں بڑا ہوتا ہے اور لوگوں کے ہاں چھوٹا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ لوگوں کے ہاں خنزیر سے بھی حقیر ہوجاتا ہے۔