(۳۵۶۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَر ، قَالَ : حدَّثَنَا وَدِیعَۃُ الأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ تَعْتَرِضُ لِمَا لاَ یَعْنِیک وَاعْتَزِلْ عَدُوَّک وَاحْذَرْ صِدِّیقَک إِلاَّ الأَمِینَ مِنَ الأَقْوَامِ ، وَلاَ أَمِینٌ إِلاَّ مَنْ خَشِیَ اللَّہَ ، وَلاَ تَصْحَبَ الْفَاجِرَ فَتَعَلَّمَ مِنْ فُجُورِہِ ، وَلاَ تُطْلِعْہُ عَلَی سِرِّکَ وَاسْتَشِرْ فِی أَمْرِکَ الَّذِینَ یَخْشَوْنَ اللَّہَ۔
(٣٥٦١٧) حضرت ودیعہ انصاری بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : جو بات تمہارے مقصد کی نہ ہو اس سے تعرض نہ کرو۔ اور اپنے دشمن سے علیحدگی رکھو۔ لوگوں میں اپنے دوستوں میں سے امین کے ماسوا سے ڈرو اور امین شخص وہ ہوتا ہے جو خوفِ خدا رکھتا ہو۔ فاجر آدمی سے صحبت نہ رکھو پھر اس کے فجور کو سیکھ جاؤ گے۔ اور اس کو اپنے راز پر مطلع نہ کرو اور اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوں۔