(۳۵۶۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِیبٍ ، قَالَ : قدِمَ أُنَاسٌ مِنَ الْعِرَاقِ عَلَی عُمَرَ وَفِیہِمْ جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : فَأَتَاہُمْ بِجَفْنَۃٍ قَدْ صُنِعَتْ بِخُبْزٍ وَزَیْتٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُمْ خُذُوا قَالَ : فَأَخَذُوا أَخْذًا ضَعِیفًا قَالَ: فَقَالَ لَہُم: قَدْ أَرَی مَا تَقْرَمُونَ إلَیْہِ، فَأَیُّ شَیْئٍ تُرِیدُونَ حُلْوًا وَحَامِضًا وَحَارًّا وَبَارِدًا وَقَذْفًا فِی الْبُطُونِ۔
(٣٥٦١٩) حضرت حبیب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ ان میں حضرت جریر بن عبداللہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں پھر کوئی ان کے پاس ایک بڑا برتن لے کر آیا جس میں روٹی اور زیتون بنایا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر (رض) نے ان لوگوں سے کہا۔ لے لو راوی کہتے ہیں انھوں نے آرام سے ہلکے سے لیا۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمر (رض) نے ان سے کہا۔ تحقیق میں تمہاری گوشت کے لیے شدت خواہش کو دیکھ رہا ہو۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ کھٹا میٹھا، ٹھنڈا گرم، پیٹوں میں ڈالنا ؟ “