(۳۵۶۲۵) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ أَمْشِی مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَرَأَی تَمْرَۃً مَطْرُوحَۃً ، فَقَالَ : خُذْہَا ، قُلْتُ : وَمَا أَصْنَعُ بِتَمْرَۃٍ ، قَالَ : تَمْرَۃٌ وَتَمْرَۃٌ حَتَّی تَجْتَمِعَ ، فَأَخَذْتہَا فَمَرَّ بِمِرْبَدِ تَمْرٍ ، فَقَالَ : أَلْقِہَا فِیہِ۔
(٣٥٦٢٥) حضرت زید بن اسلم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ چل رہا تھا۔ انھوں نے ایک گری ہوئی کھجور دیکھی تو فرمایا اس کو پکڑ لو۔ میں نے عرض کیا۔ میں اس کھجور کو کیا کروں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ایک ایک کھجور ہی جمع ہوتی ہے۔ پس میں نے وہ پکڑ لی پھر آپ (رض) کھجوروں کے ڈھیر کے پاس سے گزرے تو فرمایا : اس کھجور کو یہاں پھینک دو ۔