(۳۵۶۲۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عِیسَی ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ وَہُوَ قَاعِدٌ عَلَی جِذْعٍ فِی دَارِہِ وَہُوَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ فَدَنَوْت مِنْہُ ، فَقُلْتُ : مَا الَّذِی أَہَمَّکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَقَالَ : ہَکَذَا بِیَدِہِ وَأَشَارَ بِہَا ، قَالَ : قُلْتُ : ما الَّذِی یُہِمُّک وَاللہِ لَوْ رَأَیْنَا مِنْک أَمْرًا نُنْکِرُہُ لَقَوَّمْنَاک ، قَالَ : آللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ ، لَوْ رَأَیْتُمْ مِنِّی أَمْرًا تُنْکِرُونَہُ لَقَوَّمْتُمُوہُ ، فَقُلْتُ : آللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ ، لَوْ رَأَیْنَا مِنْک أَمْرًا نُنْکِرُہُ لَقَوَّمْنَاک ، قَالَ : فَفَرِحَ بِذَلِکَ فَرَحًا شَدِیدًا ، وَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ فِیکُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ مَنِ الَّذِی إذَا رَأَی مِنِّی أَمْرًا یُنْکِرُہُ قَوَّمَنِی۔
(٣٥٦٢٩) حضرت حذیفہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس گیا جبکہ وہ اپنے گھر کی چوکھٹ پر تھے اور اپنے آپ سے باتیں کررہے تھے۔ میں آپ کے قریب ہوا اور میں نے پوچھا : اے امیر المومنین ! کس چیز نے آپ کو فکر مند کر رکھا ہے ؟ آپ (رض) نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ فرما کر کچھ کہا۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : آپ کو کس چیز نے وہم میں ڈالا ہے ؟ خدا کی قسم ! اگر ہم آپ سے کسی امر منکر کو دیکھیں گے تو ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : بخدا ! اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اگر تم نے مجھ سے کوئی امر منکر دیکھا تو تم مجھے سیدھا کردو گے ؟ میں نے کہا : اس خدا کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ہم نے اگر آپ سے کوئی امر منکر دیکھا تو البتہ ہم آپ کو سیدھا کردیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر (رض) بہت زیادہ خوش ہوگئے اور فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہارے اندر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) پیدا فرمائے جو مجھ سے بھی کوئی امر منکر دیکھیں گے تو مجھے سیدھا کریں گے۔