(۳۵۷۲۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ ، قَالَ : جَمَعَ أَبُو الدَّرْدَائِ أَہْلَ دِمَشْقَ ، فَقَالَ : اسْمَعُوا مِنْ أَخٍ لَکُمْ نَاصِحٌ : أَتَجْمَعُونَ مَا لاَ تَأْکُلُونَ ، وَتُؤَمِّلُونَ مَا لاَ تُدْرِکُونَ، وَتَبْنُونَ مَا لاَ تَسْکُنُونَ، أَیْنَ الَّذِینَ کَانُوا مِنْ قَبْلِکُمْ ، فَجَمَعُوا کَثِیرًا وَأَمَّلُوا بَعِیدًا وَبَنَوْا شَدِیدًا، فَأَصْبَحَ جَمْعُہُمْ بُورًا ، وَأَصْبَحَ أَمَلُہُمْ غُرُورًا ، وَأَصْبَحَتْ دِیَارُہُمْ قُبُورًا۔
(٣٥٧٢٣) حضرت رجاء بن حیوہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء (رض) نے اہل دمشق کو جمع فرمایا پھر ارشاد فرمایا : اپنے خیر خواہ بھائی سے سن لو کیا تم وہ جمع کرتے ہو جس کو تم کھاؤ گے نہیں۔ اور تم اس چیز کی امید کرتے ہو جس کو تم پاؤ گے نہیں۔ اور تم وہ کچھ بناتے ہو جس میں تم نے رہنا نہیں ہے۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو تم سے پہلے تھے ؟ انھوں نے بہت کچھ جمع کیا اور دور دور کی امیدیں باندھیں۔ اور سخت (عمارتیں) بنائیں۔ پھر ان کی جمع کردہ چیزیں بیکار ہوگئیں اور ان کی امیدیں، دھوکا ہوگئیں اور ان کے گھر قبور بن گئے۔