(۳۵۷۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ رَبِیعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : أَدْلَجْت ذَاتَ لَیْلَۃٍ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا دَخَلْت مَرَرْت عَلَی رَجُلٍ وَہُوَ سَاجِدٌ وَہُوَ یَقُولُ : اللَّہُمَ إنِّی خَائِفٌ مُسْتَجِیرٌ فَأَجِرْنِی مِنْ عَذَابِکَ ، وَسَائِلٌ فَقِیرٌ فَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِکَ ، لاَ بَرِیئٌ مِنْ ذَنْبٍ فَأَعْتَذِرُ ، وَلاَ ذُو قُوَّۃٍ فَأَنْتَصِرُ ، وَلَکِنی مُذْنِبٌ مُسْتَغْفِرٌ ، قَالَ : فَأَصْبَحَ أَبُو الدَّرْدَائِ یُعَلِّمُہُنَّ أَصْحَابَہُ إعْجَابًا بِہِنَّ۔
(٣٥٧٤٤) حضرت عبداللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت ابودرداء (رض) نے فرمایا : میں ایک رات منہ اندھیرے مسجد کی طرف گیا۔ پس جب میں داخل ہوا تو میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا۔ وہ سجدہ میں تھا اور کہہ رہا تھا۔ اے اللہ ! میں خوفزدہ ہوں، پناہ کا طالب ہوں پس تو مجھے اپنے عذاب سے پناہ دے دے۔ اور میں مانگنے والا فقیر ہوں پس تو مجھے اپنے فضل میں سے رزق دے دے۔ میں گناہ سے بری نہیں ہوں لیکن تو (میرا) عذر قبول کرلے اور نہ میں طاقت ور ہوں لیکن تو میری مدد فرما۔ بلکہ میں گناہ گار اور معافی کا طلب گار ہوں۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوالدرداء (رض) نے صبح کے وقت یہ کلمات اپنے شاگردوں کو سکھانے شروع کردئیے ان کو اچھا سمجھتے ہوئے۔