(۳۵۸۰۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ حُمَیْدٍ، قَالَ: دَخَلْت مَعَ خَالِی عَبَّادٍ عَلَی سَلْمَانَ، فَلَمَّا رَآہُ صَافَحَہُ سَلْمَانُ ، وَإِذَا ہُوَ مُقَصِّصٌ ، وَإِذَا ہُوَ یَسُفُّ الْخُوصَ ، فَقَالَ : إنہ اشتُریَ لِی بِدِرْہَمٍ فَأَسِفُّہُ وَأَبِیعُہُ بِثَلاَثَۃٍ ، فَأَتَصَدَّقُ بِدِرْہَمٍ وَأَجْعَلُ دِرْہَمًا فِیہِ ، وَأُنْفِقُ دِرْہَمًا ، وَلَوْ أَنَّ عُمَرَ نَہَانِی مَا انْتَہَیْت۔
(٣٥٨٠٧) حضرت نعمان بن حمید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے خالو عباد کے ہمراہ حضرت سلمان کے ہاں گیا۔ پس جب حضرت سلمان نے ان کو دیکھا تو انھیں مصافحہ کیا۔ اور ان کے بال خوب لمبے تھے اور وہ چٹائی بن رہے تھے۔ حضرت سلمان نے فرمایا : یہ چیز میرے لیے ایک درہم میں خریدی جاتی ہے۔ میں اس کو بنتا ہوں اور اس کو تین درہموں میں بیچتا ہوں۔ پھر میں ایک درہم صدقہ کردیتا ہوں اور ایک درہم اسی کام میں لگا دیتا ہوں اور ایک درہم خرچ کردیتا ہوں۔ اور اگر حضرت عمر مجھے (اس سے) منع کریں تو بھی میں منع نہیں ہوں گا۔