(۳۵۸۰۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : إذَا کَانَ الْعَبْدُ یَذْکُرُ اللَّہَ فِی السَّرَّائِ وَیَحْمَدُہُ فِی الرَّخَائِ فَأَصَابَہُ ضُرٌّ فَدَعَا اللَّہَ ، قَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ : صَوْتٌ مَعْرُوفٌ مِنَ امْرِئٍ ضَعِیفٍ فَیَشْفَعُونَ لَہُ ، وَإِنْ کَانَ الْعَبْدُ لم یَذْکُرُ اللَّہَ فِی السَّرَّائِ ، وَلاَ یَحْمَدُہُ فِی الرَّخَائِ فَأَصَابَہُ ضُرٌّ فَدَعَا اللَّہَ قَالَتِ الْمَلاَئِکَۃُ : صَوْتٌ مُنْکَرٌ فَلَمْ یَشْفَعُوا لَہُ۔
(٣٥٨٠٩) حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بندہ جب خوشحالی میں خدا کا ذکر کرتا ہے اور تنگدستی میں اس کی حمد وثنا کرتا ہے پھر اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اللہ سے دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں ایک کمزور بندے کی پہچانی ہوئی آواز ہے۔ چنانچہ وہ اس کی شفاعت کرتے ہیں اور اگر خوشحالی میں خدا کو یاد نہیں کرتا اور تنگدستی میں خدا کی حمد نہیں کرتا پھر اس کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ اللہ سے دعا کرتا ہے۔ تو فرشتے کہتے ہیں نامانوس آواز ہے چنانچہ وہ اس کی شفاعت نہیں کرتے۔