(۳۵۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؛ أَنَّہُ قَالَ: مَا رَأَیْت رَجُلاً أَقْرَأَ مِنْ عَلِیٍّ، إِنَّہُ قَرَأَ بِنَا فِی صَلاَۃِ الْفَجْرِ بِالأَنْبِیَائِ، قَالَ: إذَا بَلَغَ رَأْسَ سَبْعِینَ تَرَکَ مِنْہَا آیَۃً فَقَرَأَ مَا بَعْدَہَا، ثُمَّ ذَکَرَ فَرَجَعَ فَقَرَأَہَا، ثُمَّ رَجَعَ إلَی مَکَانِہِ الَّذِی کَانَ قَرَأَ، لَمَّا یَتَتَعْتَعْ۔
(٣٥٨١) حضرت ابو عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی سے زیادہ قرآن کا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ انھوں نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورة الانبیاء کی تلاوت کی۔ انھوں نے جب ستر آیات مکمل کیں تو ایک آیت چھوڑ دی اور اس کے بعد والی آیت پڑھ لی۔ پھر جب انھیں یاد آیا تو واپس گئے اور اسے پڑھا۔ پھر اس جگہ واپس ہوگئے جہاں سے پڑھ رہے تھے، جب انھیں اٹکن محسوس ہوئی۔