(۳۵۸۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَمِّی مُوسَی بْنُ یَسَارٍ ، أَنَّ سَلْمَانَ کَتَبَ إِلَی أَبِی الدَّرْدَائِ ، إِنَّ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ إمَامًا مُقْسِطًا ، وَذَا مَالٍ تَصَدَّقَ أَخْفَی یَمِینَہُ ، عَنْ شِمَالِہِ ، وَرَجُلاً دَعَتْہُ امْرَأَۃٌ جمیلۃ ذَاتُ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ إِلَی نَفْسِہَا ، فَقَالَ : أَخَافُ اللَّہَ رَبَّ الْعَالَمِینَ ، وَرَجُلاً نَشَأَ فَکَانَتْ صُحْبَتُہُ وَشَبَابُہُ وَقُوَّتُہُ فِیمَا یُحِبُّ اللَّہُ وَیَرْضَاہُ مِنَ الْعَمَلِ ، وَرَجُلاً کَانَ قَلْبُہُ مُعَلَّقًا فِی الْمَسَاجِدِ مِنْ حُبِّہَا ، وَرَجُلاً ذَکَرَ اللَّہَ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ مِنَ الدَّمْعِ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ ، وَرَجُلَیْنِ الْتَقَیَا ، فَقَالَ : أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ ، إنِّی لأُحِبُّک فِی اللہِ ، وَکَتَبَ إلَیْہِ : إنَّمَا الْعِلْمُ کَالْیَنَابِیعِ فَیَنْفَعُ بِہِ اللَّہُ مَنْ شَائَ ، وَمَثَلُ حِکْمَۃٍ لاَ یُتَکَلَّمُ بِہَا کَجَسَدٍ لاَ رُوحَ لَہُ ، وَمَثَلُ عِلْمٍ لاَ یُعْمَلُ بِہِ کَمَثَلِ کَنْزٍ لاَ یُنْفَقُ مِنْہُ ، وَمَثَلُ الْعَالِمِ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَضَائَ لَہُ مِصْبَاحٌ فِی طَرِیقٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَسْتَضِیئُونَ بِہِ ، وَکُلٌّ یَدْعُو إِلَیْہِ۔
(٣٥٨١١) حضرت موسیٰ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلمان نے حضرت ابوالدرداء (رض) کو خط لکھا : ” عرش کے سایہ میں عادل امام ہوگا اور وہ مالدار شخص ہوگا کہ جب صدقہ کرے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھے اور وہ آدمی ہوگا جس کو خوبصورت اور حسب ونسب والی عورت اپنی طرف دعوت دے اور وہ مرد کہہ دے میں رب العالمین سے خوف کرتا ہوں اور وہ آدمی ہوگا جو اس طرح نشو و نما پائے کہ اس کی صحت، اس کا شباب اور اس کی موت اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے اعمال میں خرچ ہو اور وہ آدمی ہوگا جس کا دل مسجد کی محبت کی وجہ سے مسجدوں میں ہی اٹکا رہے اور وہ آدمی ہوگا جو اللہ کا ذکر کرے اور خدا کے خوف کی وجہ سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اور وہ دو آدمی ہوں گے جو باہم ملیں تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہے : میں تم سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔
اور خط میں یہ بھی لکھا : علم، چشموں کی طرح ہے پس اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ جس کو چاہے اس سے نفع مند کرتے ہیں۔ اور وہ حکمت جو بولی نہ جائے اس کی مثال بےروح جسم کی طرح ہے اور عمل نہ کیے جانے والے علم کی مثال اس خزانہ کی طرح ہے جس سے خرچ نہ کیا جائے اور عالم کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے لیے راستہ میں چراغ روشن کیا جائے۔ پس لوگ اس سے روشنی حاصل کریں اور ہر ایک اس کے لیے دعا کرے۔