(۳۵۸۳۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قیلَ لَہُ : أَلاَ تَتَّخِذُ أَرْضًا کَمَا اتَّخَذَ طَلْحَۃُ وَالزُّبَیْرُ ، قَالَ : فَقَالَ : وَمَا أَصْنَعُ بِأَنْ أَکُونَ أَمِیرًا ، وَإِنَّمَا یَکْفِینِی کُلَّ یَوْمٍ شَرْبَۃٌ مِنْ مَائٍ ، أَوْ نَبِیذٍ ، أَوْ لَبَنٍ وَفِی الْجُمُعَۃِ قَفِیزٌ مِنْ قَمْحٍ۔
(٣٥٨٣٠) حضرت ابوذر (رض) کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ جس طرح حضرت طلحہ اور حضرت زبیر نے زمین بنائی ہے آپ کیوں نہیں بنا لیتے ؟ راوی کہتے ہیں انھوں نے جواب دیا : میں امیر ہو کر کیا کروں گا ؟ مجھے تو روزانہ کے لیے ایک گھونٹ پانی یا نبیذ کا ایک گھونٹ یا دودھ کا گھونٹ کافی ہے اور ہر جمعہ کے لیے ایک قفیز گندم کافی ہے۔