(۳۵۸۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ خِرَاشٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ ، وَعِنْدَہُ امْرَأَۃٌ لَہُ سَحْمَائُ ، أَوْ شَحْبَائُ ، قَالَ : وَہُوَ فِی مِظَلَّۃٍ سَوْدَائَ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : یَا أَبَا ذَرٍّ ، لَوِ اتَّخَذْت امْرَأَۃً ہِیَ أَرْفَعُ مِنْ ہَذِہِ ، قَالَ : فَقَالَ : إنِّی وَاللہِ لأَنْ أَتَّخِذَ امْرَأَۃً تَضَعُنِی ، أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَّخِذَ امْرَأَۃً تَرْفَعُنِی ، قَالُوا : یَا أَبَا ذَرٍّ ، إنَّک مُرْزَؤٌ مَا یَکَادُ یَبْقَی لَک وَلَدٌ ، قَالَ : فَقَالَ : إِنَّا نَحْمَدُ اللَّہَ الَّذِی یَأْخُذُہُمْ مِنَّا فِی دَارِ الْفَنَائِ وَیَدَّخِرْہُم لَنَا فِی دَارِ الْبَقَائِ ، قَالَ : وَکَانَ یَجْلِسُ عَلَی قِطْعَۃِ الْمِسْحِ وَالْجَوَالِقِ ، قَالَ : فَقَالُوا: یَا أَبَا ذَرٍّ لَوِ اتَّخَذْت بِسَاطًا ہُوَ أَلْیَنُ مِنْ بِسَاطِکَ ہَذَا ، قَالَ : فَقَالَ : اللَّہُمَّ غُفْرًا ، خُذْ مَا أُوتِیت ، إنَّمَا خُلِقْنَا لِدَارٍ لَہَا نَعْمَلُ وَإِلَیْہَا نَرْجِعُ۔
(٣٥٨٣٢) حضرت عبداللہ بن خراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) کو مقام ربذہ میں دیکھا ان کے ساتھ ایک سحماء یا شحباء عورت تھی۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر (رض) ایک سیاہ سائبان میں تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت ابوذر (رض) سے کہا گیا۔ اگر آپ اس عورت سے بلند عورت رکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا : خدا کی قسم ! میں کوئی ایسی عورت رکھوں جو مجھے نیچا رکھے یہ بات مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسی عورت رکھوں جو مجھے بلند کرے۔ لوگوں نے کہا : اے ابوذر (رض) ! آپ اولاد کی طرف سے غم زدہ ہیں۔ آپ کا کوئی بچہ باقی نہیں رہتا۔ راوی کہتے ہیں اس پر آپ نے فرمایا : ہم اس اللہ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں جو ہم سے دارالفناء میں بچے لیتا ہے اور ان کو ہمارے لیے دارالبقاء میں ذخیرہ کرلیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابوذر (رض) ٹاٹ اور بالوں سے بنے بچھونے پر بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : اے ابوذر (رض) ! اگر آپ کوئی ایسا بچھونا بنا لیتے جو آپ کے اس بچھونے سے نرم ہوتا ؟ اس پر انھوں نے فرمایا : اللَّہُمَّ غُفْرًا ” اے اللہ ! مغفرت عطا فرما۔ “ مجھے جو دیا جائے وہ آپ لے لیں۔ کیونکہ ہم تو اس گھر کے لیے عامل پیدا کیے گئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔