(۳۵۸۳۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، قَالَ : أَرْسَلَ حَبِیبُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَہُوَ عَلَی الشَّامِ إِلَی أَبِی ذَرٍّ بِثَلاَثُ مِئَۃ دِینَارٍ ، فَقَالَ : اسْتَعِنْ بِہَا عَلَی حَاجَتِکَ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : ارْجِعْ بِہَا ، فَمَا وَجَدَ أَحَدًا أَغَرَّ بِاللہِ مِنَّا ، مَا لَنَا إِلاَّ ظِلٌّ نَتَوَارَی بِہِ ، وَثُلَّۃٌ مِنْ غَنَمٍ تَرُوحُ عَلَیْنَا ، وَمَوْلاَۃٌ لَنَا تَصَدَّقَتْ عَلَیْنَا بِخِدْمَتِہَا ، ثُمَّ إنِّی لأَتَخَوَّفُ الْفَضْلَ۔
(٣٥٨٣٤) حضرت ابوبکر بن منذر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حبیب بن مسلمہ نے ۔۔۔ یہ شام پر حکمران تھے ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) کی طرف تین سو دینار بھیجے اور فرمایا : ان سے اپنی ضرورت میں مدد کرلینا۔ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا : ان کو واپس لے جاؤ۔ ہم سے بڑھ کر کوئی شخص غنی نہیں ہے۔ ہمیں تو صرف ایک سایہ چاہیے جس میں ہم سایہ حاصل کریں اور بکریوں کا ایک ریوڑ ہے جو ہمیں راحت دیتا ہے اور ایک آزاد لونڈی ہے جو اپنی خدمات کا ہم پر صدقہ کرتی ہے پھر میں اس سے زیادہ چیز کا خوف کھاتا ہوں۔