(۳۵۸۵۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعْدٍ الْکَلاَعِیُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَائِذٍ الأَزْدِیِّ ، عَنْ غُطَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ الْکِنْدِیِّ ، قَالَ : جَلَسْت أَنَا وَأَصْحَابٌ لِی إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : فَسَمِعْتہ یَقُولُ : إنَّ الْعَبْدَ إذَا وُضِعَ فِی الْقَبْرِ کَلَّمَہُ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّی بَیْتُ الْوَحْدَۃِ وَبَیْتُ الظُّلْمَۃِ وَبَیْتُ الْحَقِ ، یَا ابْنَ آدَمَ ، مَا غَرَّک بِی ، قَدْ کُنْت تَمْشِی حَوْلِی فِدَادًا ، قَالَ : فَقُلْتُ لِغُطَیْفٍ : یَا أَبَا أَسْمَائَ ، مَا فِدَادًا ، قَالَ : اختیالاً ، فَقَالَ لَہُ صَاحِبِی وَکَانَ أَسَنَّ مِنِّی : فَإِذَا کَانَ مُؤْمِنًا ، قَالَ : وُسِّعَ لَہُ فِی قَبْرِہِ وَجُعِلَ مَنْزِلُہُ أَخْضَرَ ، وَعُرِجَ بِنَفْسِہِ إِلَی الْجَنَّۃِ۔
(٣٥٨٥٩) حضرت غطیف بن حارث کندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے کچھ ساتھی حضرت عبداللہ بن عمرو کی خدمت میں حاضر تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے انھیں کہتے ہوئے سنا کہ جب بندہ کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اس سے کلام کرتی ہے۔ اور کہتی ہے : اے آدم کے بیٹے ! کیا تجھے معلوم نہیں تھا کہ میں تنہائی کا گھر ہوں اور ظلمت کا گھر ہوں اور حقیقت کا گھر ہوں ؟ اے آدم کے بیٹے ! تجھے کس چیز نے میرے ساتھ دھوکا میں ڈالا تھا ؟ تم میرے گرد فداداً چلتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت غطیف سے پوچھا : اے ابواسمائ ! فداداً کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا : یعنی تکبر کے ساتھ۔ حضرت غطیف سے میرے ساتھی نے ۔۔۔ جو عمر میں مجھ سے بڑا تھا ۔۔۔ کہا۔ اگر وہ شخص مومن ہو ؟ غطیف نے کہا : اس کے لیے اس کی قبر کو وسیع کردیا جاتا ہے اور اس کی منزل کو سرسبز کردیا جاتا ہے اور اس کے نفس کو جنت کی طرف بلند کردیا جاتا ہے۔