(۳۵۸۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو بَیْنَا ہُوَ جَالِسٌ وَبَیْنَ یَدَیْہِ نَارٌ إذْ شَہِقَتْ ، فَقَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنَّہَا لَتَعُوذُ بِاللہِ مِنَ النَّارِ الْکُبْرَی ، أَوَ قَالَ : مِنْ نَارِ جَہَنَّمَ : قَالَ : فَرَأَی الْقَمَرَ حِینَ جَنَحَ لِلْغُرُوبِ ، فَقَالَ : وَاللہِ إِنَّہُ لَیَبْکِی الآنَ۔
(٣٥٨٦٥) حضرت ابوعمران سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آگ تھی کہ اچانک میرا سانس گھٹنے لگا تو آپ (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! یہ آگ بھی اللہ تعالیٰ سے بڑی آگ ۔۔۔ یا فرمایا جہنم کی آگ ۔۔۔ سے پناہ مانگتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے چاند کو غروب ہوتے وقت جھک کر دیکھا تو فرمایا : بخدا ! یہ اس وقت رو رہا ہے۔