(۳۵۸۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ، قَالَ سَمِعْتہ یَقُولُ : مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَثَلُ الْمَوْتِ مَثَلُ رَجُلٍ کَانَ لَہُ ثَلاَثَۃُ أَخِلاَئٍ ، فَقَالَ لأَحَدِہِمْ : مَا عِنْدَکَ ، فَقَالَ : عِنْدِی مَالُک فَخُذْ مِنْہُ مَا شِئْت ، وَمَا لَمْ تَأْخُذْ فَلَیْسَ لَک ، ثُمَّ قَالَ لِلآخَرِ : مَا عِنْدَکَ ، قَالَ : أَقُومُ عَلَیْک فَإِذَا مِتّ دَفَنْتُک وَخَلَّیْتُک ، ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ : مَا عِنْدَکَ ، فَقَالَ : أَنَا مَعَک حَیْثُمَا کُنْت ، قَالَ : فَأَمَّا الأَوَّلُ فَمَالُہُ ، مَا أَخَذَ فَلَہُ ، وَمَا لَمْ یَأْخُذْ فَلَیْسَ لَہُ ، وَأَمَّا الثَّانِی فَعَشِیرَتُہُ ، إذَا مَاتَ قَامُوا عَلَیْہِ ، ثُمَّ خَلَّوْہُ ، وَأَمَّا الثَّالِثُ : فَعَمَلُہُ حَیْثُمَا کَانَ ؛ کَانَ مَعَہُ وَحَیْثُمَا دَخَلَ دَخَلَ مَعَہُ۔
(٣٥٨٦٨) حضرت سماک، حضرت نعمان بن بشیر کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے انھیں کہتے سنا۔ ابن آدم اور موت کی مثال یہ ہے جیسے ایک آدمی کے تین دوست ہوں۔ وہ ان میں سے ایک دوست سے کہے۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ وہ دوست کہے۔ میرے پاس تیرا مال ہے۔ پس تو اس میں سے جو چاہے لے لے اور جو تو نہ لے سکے تو پھر وہ تیرا نہیں ہے۔ پھر اس آدمی نے دوسرے سے پوچھا۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا جب تو مرجائے گا تو میں تجھے دفن کروں گا اور تجھے اکیلا چھوڑ دوں گا۔ پھر اس آدمی نے تیسرے سے کہا۔ تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم جہاں ہو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا۔ حضرت نعمان نے فرمایا : پس پہلا دوست اس کا مال ہے کہ جو اس نے لے لیا وہ اس کا ہے اور جو اس نے نہ لیا وہ اس کا نہیں ہے اور جو دوسرا ہے وہ اس کا قبیلہ، برادری ہے۔ جب یہ مرجائے گا تو یہ اس کے پاس رہیں گے پھر اس کو اکیلا چھوڑ دیں گے اور تیسرا اس کا عمل ہے جو اس کے ساتھ ہوگا وہ جہاں بھی ہو اور جہاں وہ جائے گا یہ بھی ساتھ جائے گا۔