(۳۵۸۷۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی حِبَّانُ بْنُ زَیْدٍ الشَّرْعَبِیُّ ، قَالَ وَکَانَ وُدًّا لِلنُّعْمَانِ ، وَکَانَ النُّعْمَانُ اسْتَعْمَلَہُ عَلَی النَّبْک ، قَالَ : فَسَمِعَ النُّعْمَانَ یَقُولُ : أَلاَ إنَّ عُمَّالَ اللہِ ضَامِنُونَ عَلَی اللہِ ، أَلاَ إنَّ عُمَّالَ بَنِی آدَمَ لاَ یَمْلِکُونَ ضَمَانَہُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ النُّعْمَانُ ، عَنْ مِنْبَرِہِ أَتَاہُ فَاسْتَعْفَی ، فَقَالَ : مَا لَک ، قَالَ : سَمِعْتُک تَقُولُ کَذَا وَکَذَا۔
(٣٥٨٧٠) حضرت حبان بن زید بیان کرتے ہیں ۔۔۔ یہ حضرت نعمان کے بہت دوست تھے اور آپ (رض) نے ان کو مقام نبک پر عامل مقرر کیا تھا ۔۔۔ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت نعمان کو کہتے سنا خبردار ! خدا کے عمال خدا پر ضامن ہوں گے۔ خبردار ! بنی آدم کے عمال۔ اپنے ضمان کے مالک نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر جب حضرت نعمان اپنے منبر سے اترے تو یہ ان کے پاس آئے اور ان کو استعفیٰ دینا چاہا انھوں نے پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے کہا میں نے آپ کو یوں یوں کہتے سنا ہے۔