(۳۵۹۴۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قامَ حُذَیْفَۃُ بِالْمَدَائِنِ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} أَلاَ إِنَّ السَّاعَۃَ قَدِ اقْتَرَبَتْ ، وَإِنَّ الْقَمَرَ قَدِ انْشَقَّ ، أَلاَ وَإِنَّ الدُّنْیَا قَدْ آذَنَتْ بِالْفِرَاقِ ، أَلاَ وَإِنَّ الْمِضْمَارَ الْیَوْمُ ، وَإِنَّ السِّبَاقَ غَدًا ، وَإِنَّ الْغَایَۃَ النَّارُ ، وَإِنَّ السَّابِقَ مَنْ سَبَقَ إِلَی الْجَنَّۃِ۔
(٣٥٩٤٤) حضرت ابوعبدالرحمن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) مدائن میں کھڑے تھے۔ آپ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا : { اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ } خبردار ! قیامت قریب آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔ خبردار ! دنیا نے جدائی کا کہہ دیا ہے۔ خبردار ! آج کا دن دوڑ کا میدان ہے اور کل کا دن سبقت ہے۔ اور انتہا جہنم ہے اور سبقت کرنے والا وہی ہے جو جنت کی طرف سبقت کرجائے۔