hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 35984

.

ابن أبي شيبة

35984
Ibn Abi Shaybah
(۳۵۹۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِی الْوَدَّاکِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : إنَّ إبْرَاہِیمَ یَلْقَاہُ أَبُوہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَتَعَلَّقُ بِہِ ، فَیَقُولُ لَہُ إبْرَاہِیمُ : قَدْ کُنْت آمُرُک وَأَنْہَاک فَعَصَیْتَنِی ، قَالَ : وَلَکِنَّ الْیَوْمَ لاَ أَعْصِیک ، قَالَ : فَیُقْبِلُ إبْرَاہِیمُ إِلَی الْجَنَّۃِ وَہُوَ مَعَہُ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : یَا إبْرَاہِیمُ ، دَعْہُ ، قَالَ : فَیَقُولُ : إنَّ اللَّہَ وَعَدَنِی أَنْ لاَ یَخْذُلَنِی الْیَوْمَ ، قَالَ : فَیَأْتِی إبْرَاہِیمَ آتٍ مِنْ رَبِّہِ مَلَک ، فَیُسَلِّمُ عَلَیْہِ فَیَرْتَاعُ لَہُ إبْرَاہِیمُ وَیُکَلِّمُہُ وَیُشْغَلُ حَتَّی یَلْہُو عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : فَیَنْطَلِقُ الْمَلَکُ وَیَمْشِی إبْرَاہِیمُ نَحْوَ الْجَنَّۃِ ، قَالَ : فَیُنَادِیہِ أَبُوہُ : یَا إبْرَاہِیمُ ، قَالَ : فَیَلْتَفِتُ إلَیْہِ وَقَدْ غُیِّرَ خَلْقُہُ ، قَالَ : فَیَقُولُ إبْرَاہِیمُ : أُفٍّ أُفٍّ ، ثُمَّ یَسْتَقِیمُ وَیَدَعُہُ۔
(٣٥٩٨٥) حضرت ابوسعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم کے والد کی حضرت ابراہیم سے ملاقات ہوگی۔ وہ حضرت ابراہیم سے لپٹ جائیں گے تو حضرت ابراہیم ان سے کہیں گے۔ تحقیق میں نے آپ کو حکم دیا اور آپ کو منع کیا لیکن آپ نے میری نافرمانی کی۔ والد کہیں گے : لیکن آج تو میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم جنت کی طرف چل دیں گے اور وہ بھی آپ کے ساتھ ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابراہیم کو کہا جائے گا۔ اے ابراہیم ! اس کو چھوڑ دے۔ راوی کہتے ہیں وہ کہیں گے تحقیق اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے آج کے دن رسوا نہیں کرے گا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابراہیم کے پاس ان کے پروردگار کے پاس سے ایک فرشتہ آئے گا اور انھیں سلام کہے گا۔ پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اس سے کلام کریں گے۔ اور ایسے مصروف ہوں گے کہ اپنے والد سے غافل ہوجائیں گے۔ راوی کہتے ہیں پھر فرشتہ چلنے لگے گا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی ان کے ہمراہ جنت کی طرف چلیں گے۔ راوی کہتے ہیں اس پر ان کے والد ان کو آواز دیں گے۔ اے ابراہیم ! راوی کہتے ہیں آپ اس کی طرف التفات کریں گے تو اس کی خلقت ہی بدل چکی ہوگی۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے۔ اُف، اُف۔ پھر آپ (علیہ السلام) سیدھے ہوجائیں گے اور اس کو چھوڑ دیں گے۔