(۳۶۰۲۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ رَجُلاً کَانَ یَجْلِسُ إِلَی مَسْرُوقٍ یَعْرِفُ وَجْہَہُ وَلاَ یُسَمِّی اسْمَہُ ، قَالَ : فَشَیَّعَہُ ، قَالَ : فَکَانَ فِی آخِرِ مَنْ وَدَّعَہُ ، فَقَالَ : إنَّک قَرِیعُ الْقُرَّائِ وَسَیِّدُہُمْ ، وَإِنَّ زَیْنَک لَہُمْ زَیْنٌ ، وَشَیْنَک لَہُمْ شَیْنٌ ، فَلاَ تُحَدِّثَنَّ نَفْسَک بِفَقْرٍ ، وَلاَ طُولِ عُمُرٍ۔
(٣٦٠٢١) حضرت عامر سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت مسروق کے پاس بیٹھتا تھا راوی اس کو شکل سے جانتا تھا لیکن نام سے واقف نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ آپ کی مشایعت میں نکلا۔ راوی کہتے ہیں وہ آپ کو الوداع کہنے والوں میں آخری تھا۔ تو اس نے کہا آپ سب قاریوں میں سے بڑے اور ان کے سردار ہیں۔ اور آپ کی زینت میں ان کی زینت ہے اور آپ کی بدصورتی، ان کی بدصورتی ہے۔ پس آپ اپنے نفس سے فقر اور لمبی عمر کی باتیں نہ کیا کریں۔