hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36024

.

ابن أبي شيبة

36024
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۰۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ صَالِحٌ بِصُرَّۃٍ مِنْ دَرَاہِمَ فِی ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ ، فَأَرَادَ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِہَا ، فَلَقِیَ رَجُلاً کَثِیرَ الْمَالِ فَأَعْطَاہَا إیَّاہُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، قَالَ : أَلاَ تَعْجَبُونَ لِفُلاَنٍ وَکَثْرَۃِ مَالِہِ ، جَائَہُ رَجُلٌ بِصُرَّۃِ دَرَاہِمَ فَأَعْطَاہَا إیَّاہُ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ الرَّجُلَ فَشَقَّ عَلَیْہِ ، وَقَالَ : مَا أَرَاہُ تُقْبَلُ مِنِّی حِینَ أَعْطَیْتہَا ہَذَا الرَّجُلَ الْغَنِیَّ۔ ۲۔ قَالَ : وَخَرَجَ لَیْلَۃً أُخْرَی بِصُرَّۃٍ فَأَعْطَاہَا امْرَأَۃً بَغِیًّا ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ، قَالُوا : أَلاَ تَعْجَبُونَ إِلَی فُلاَنَۃَ جَائَہَا فُلاَنٌ بِصُرَّۃٍ فَأَعْطَاہَا وَہِیَ لاَ تَمْنَعُ رِجْلَہَا مِنْ أَحَدٍ ، فَبَلَغَہُ ذَلِکَ فَشَقَّ عَلَیْہِ ، وَقَالَ : مَا أُرَاہُ یُقْبَلُ مِنِّی۔ ۳۔ قَالَ : فَأُتِیَ فِی الْمَنَامِ فَقِیلَ لَہُ قَدْ تُقُبِّلَ مِنْک مَا أَعْطَیْت ہَذَا الْغَنِی ، فَإِنَّا أَرَدْنَا أَنْ نُرِیَہُ ، أَنَّ فِی النَّاسِ مَنْ یَتَصَدَّقُ ، فَیَرْغَبُ فِی ذَلِکَ ، وَأَمَّا الْمَرْأَۃُ فَإِنَّہَا إنَّمَا تَبْغِی مِنَ الْحَاجَۃِ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعُفَّہَا۔
(٣٦٠٢٥) حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرد صالح رات کے اندھیرے میں درہموں کی تھیلی لے کر نکلا۔ وہ اس کو صدقہ کرنا چاہتا تھا کہ اس کو ایک کثیر المال شخص ملا اس آدمی نے یہ دراہم کی تھیلی اس کو دے دی۔ جب صبح ہوئی تو شور ہوا۔ فلاں آدمی اور اس کے مال پر تم لوگ تعجب نہیں کرتے۔ اس کے پاس کوئی آدمی درہموں کی تھیلی لے کر آیا اور وہ اس کو دے گیا۔ یہ بات اس دینے والے کو پہنچی تو اس پر بہت شاق گزرا اس نے کہا میرا خیال نہیں ہے کہ جب میں نے تھیلی اس مالدار کو دے دی ہے تو میری طرف سے یہ قبول ہوا ہوگا۔
٢۔ راوی کہتے ہیں یہ آدمی ایک رات پھر تھیلی لے کر نکلا اور اس نے یہ تھیلی ایک زانیہ عورت کو دے دی۔ لوگوں نے جب صبح کی تو کہنے لگے۔ فلانی عورت پر تمہیں تعجب نہیں ہے۔ اس کے پاس فلاں آیا اور اس کو تھیلی دے گیا حالانکہ یہ عورت تو کسی کو اپنے پاس آنے سے نہیں روکتی۔ اس آدمی کو یہ بات پہنچی تو اس کو بہت شاق گزرا اس نے کہا : میرا خیال نہیں ہے کہ یہ صدقہ میری طرف سے قبول ہوا ہوگا۔
٣۔ راوی کہتے ہیں پھر اس آدمی کو خواب آیا اور اس کو کہا گیا تم نے غنی کو جو صدقہ دیا وہ بھی تم سے قبول ہوگیا ہے کیونکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو یہ بات دکھائیں کہ صدقہ کرنے والے لوگ بھی ہیں تاکہ اس کو بھی اس کا شوق ہو اور جو عورت تھی وہ صرف ضرورت کی وجہ سے زنا کرتی تھی۔ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم اس کو عفیفہ بنائیں۔