hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36078

.

ابن أبي شيبة

36078
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۰۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَبِیعَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ رَبِیعَۃَ : یَا عَبْدَ اللہِ ، أَلاَ تُعِینُنِی عَلَی ابْنِ أَخِیک ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ، قَالَ : یُعِینُنِی عَلَی مَا أَنَا فِیہِ مِنْ عَمَلٍ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ : یَا عَمْرُو ، أَطِعْ أَبَاک ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَی مِعَضَدٍ وَہُوَ جَالِسٌ ، فَقَالَ : لاَ تُطِعْہُم {وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} قَالَ : فَقَالَ عَمْرٌو : یَا أَبَتِ ، إِنِی إنَّمَا أَنَا عَبْدٌ أَعْمَلُ فِی فِکَاکِ رَقَبَتِی ، قَالَ : فَبَکَی عُتْبَۃُ ، وَقَالَ : یَا بُنَیَّ إنِّی لأُحِبُّک حُبَّیْنِ : حُبًّا لِلَّہِ وَحُبَّ الْوَالِدِ وَلَدَہُ ، قَالَ : فَقَالَ : عَمْرٌو : یَا أَبَتِ ، إنَّک کُنْت أَتَیْتنِی بِمَالٍ بَلَغَ سَبْعِینَ أَلْفًا ، فَإِنْ کُنْت سَائِلِی عَنْہُ فَہُوَ ذَا فَخُذْہُ ، وَإِلاَّ فَدَعْنِی فَأَمْضِیہ ، قَالَ لَہُ : عُتْبَۃُ فَأَمْضِہِ ، قَالَ : فَأَمْضَاہُ حَتَّی مَا بَقِیَ مِنْہُ دِرْہَمٌ۔
(٣٦٠٧٩) حضرت عبداللہ بن ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے عبداللہ بن ربیعہ سے کہا : اے عبداللہ ! کیا آپ اپنے بھتیجے کے بارے میں میری مدد نہیں کرو گے ؟ انھوں نے کہا : وہ کیا مدد ہے ؟ انھوں نے کہا : میں جس کام میں ہوں وہ میری اس میں مدد کرے۔ تو عبداللہ نے اس سے کہا : اے عمرو ! اپنے والد کی اطاعت کر۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے حضرت معضد کی طرف دیکھا۔ وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے فرمایا : تو ان کی اطاعت نہ کر { وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ } راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو نے فرمایا : اے میرے ابا جان ! میں تو محض ایک غلام ہوں جو اپنی گردن چھڑانے میں عمل کررہا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر عتبہ رو پڑے اور کہا : اے میرے بیٹے ! میں تجھ سے دو محبتیں کرتا ہوں ایک اللہ کے لیے محبت اور (دوسری) والد کی اپنے بیٹے سے محبت۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمرو نے کہا : اے ابا جان ! آپ میرے پاس ستر ہزار کے مبلغ مال لائے تھے۔ پس اگر آپ اس مال کے متعلق مجھ سے سوال کر رہے ہیں تو وہ یہ ہے اس کو لے لو۔ وگرنہ مجھے چھوڑ دو کہ میں اس کو خرچ کروں۔ عتبہ نے اس کو کہا : تم اس کو خرچ لو۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے اس کو اس طرح خرچ کیا کہ اس میں سے ایک درہم بھی باقی نہ رہا۔