(۳۶۱۰۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : لَمْ یَکُنْ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَحَزِّقِینَ ، وَلاَ مُتَمَاوِتِینَ ، وَکَانُوا یَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ فِی مَجَالِسِہِمْ ، وَیَذْکُرُونَ أَمْرَ جَاہِلِیَّتِہِمْ ، فَإِذَا أُرِیدَ أَحَدُہُمْ عَلَی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ دِینِہِ دَارَتْ حَمَالِیقُ عَیْنَیْہِ کَأَنَّہُ مَجْنُونٌ۔
(٣٦١٠٤) حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کنجوسی کرنے والے اور ادائے عبادت میں کمزوری کرنے والے نہ تھے۔ وہ اپنی مجالس میں شعر پڑھتے تھے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں یاد کرتے تھے۔ لیکن جب ان کے دین کے کسی معاملہ میں ان میں سے کسی پر ارادہ کیا جاتا تو اس کی آنکھوں کے پپوٹے یوں گھومتے گویا کہ وہ مجنون ہے۔