(۳۶۱۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ سَمِعْت الأَعْمَشَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : یُدَبِّرُ أَمْرَ الدُّنْیَا أَرْبَعَۃٌ : جَبْرَائِیلُ وَمِیکَائِیلُ وَإِسْرَافِیلُ وَمَلَکُ الْمَوْتِ ، فَأَمَّا جَبْرَائِیلُ فَصَاحِبُ الْجُنُودِ وَالرِّیحِ ، وَأَمَّا مِیکَائِیلُ فَصَاحِبُ الْقَطْرِ وَالنَّبَاتِ ، وَأَمَّا مَلَکُ الْمَوْتِ فَمُوَکَّلٌ بِقَبْضِ الأَنْفُسِ ، وَإِمَّا إسْرَافِیلُ فَہُوَ یَتَنَزَّلُ بِالأَمْرِ عَلَیْہِمْ بِمَا یُؤْمَرُونَ۔
(٣٦١١٦) حضرت ابن سابط سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے امور کی تدبیر چار فرشتے کرتے ہیں۔ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت۔ جو جبرائیل ہے وہ لشکروں اور ہوا والا ہے اور جو میکائیل ہے وہ بارشوں اور نباتات والا ہے اور ملک الموت تو روحوں کو قبض کرنے والا ہے اور اسرافیل لوگوں پر جو احکامات ہوتے ہیں جو انھوں نے پورے کرنے ہوتے ہیں وہ لے کر اترتا ہے۔