(۳۶۱۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : کَانَ مِنْ کَلاَمُہِ أَنْ یَقُولَ : أَیُّ حَسْرَۃٍ أَکْبَرُ عَلَی امْرِئٍ مِنْ أَنْ یَرَی عَبْدًا لہ کَانَ اللَّہُ خَوَّلَہُ فِی الدُّنْیَا وَہُوَ عِنْدَ اللہِ أَفْضَلُ مَنْزِلَۃً مِنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَأَیُّ حَسْرَۃٍ عَلَی امْرِئٍ أَکْبَرُ مِنْ أَنْ یُؤْتِیَہُ اللَّہُ مَالاً فِی الدُّنْیَا فَیَرِثَہُ غَیْرُہُ فَیَعْمَلَ فِیہِ بِطَاعَۃِ اللہِ فَیَکُونَ وِزْرُہُ عَلَیْہِ وَأَجْرُہُ لِغَیْرِہِ ، وَأَیُّ حَسْرَۃٍ عَلَی امْرِئٍ أَکْبَرُ مِنْ أَنْ یَرَی عَبْدًا کَانَ مَکْفُوفَ الْبَصَرِ فِی الدُّنْیَا قَدْ فَتَحَ اللَّہُ لَہُ ، عَنْ بَصَرِہِ وَقَدْ عَمِیَ ہُوَ ، ثُمَّ یَقُولُ : إنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوا یَفِرُّونَ مِنَ الدُّنْیَا وَہِیَ مُقْبِلَۃٌ عَلَیْہِمْ ، وَلَہُمْ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَہُمْ ، وَإِنَّکُمْ تَتَّبِعُونَہَا وَہِیَ مُدْبِرَۃٌ عَنْکُمْ وَلَکُمْ مِنَ العذاب مَا لَکُمْ ، فَقِیسُوا أَمْرَکُمْ وَأَمْرَ الْقَوْمِ۔
(٣٦١١٩) حضرت حصین، حضرت ابراہیم تیمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کے کلام میں سے یہ بات تھی : آدمی کو اس سے بڑی حسرت کیا ہوگی کہ وہ اپنے غلام کو جس کو اللہ نے دنیا میں اس کا غلام بنایا تھا اور وہ غلام اللہ کے ہاں بروز قیامت افضل درجہ پر ہو ؟ آدمی کو اس سے بڑی حسرت کس بات پر ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں مال دیا تھا۔ وہ کسی اور کو اس مال کا وارث بنا دے پھر وہ وارث اس مال میں اللہ کی اطاعت کرے۔ پس مال کا گناہ مالک پر اور اس کا ثواب دوسرے کے لیے ہو ؟ اور اس سے بڑی حسرت آدمی کو کیا ہوگی کہ وہ کسی بندے کو دیکھے جو دنیا میں نابینا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کھول دی ہے اور یہ نابینا ہوگیا ہے ؟ پھر آپ (رض) نے فرمایا : تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ دنیا سے بھاگتے تھے جبکہ دنیا ان کی طرف متوجہ ہوتی تھی۔ اور ان لوگوں کو جو مقام ملتا تھا وہ ملتا تھا۔ لیکن تم لوگ دنیا کی پیروی کرتے ہو اور دنیا نے تم سے منہ پھیرا ہوا ہے اور تمہیں جو عذاب ہونا ہے وہ ہونا ہے۔ پس تم اپنا اور ان لوگوں کا معاملہ قیاس کرلو۔