(۳۶۱۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ طُعْمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عِیسَی ، قَالَ : کَانَ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ عَبَدَ اللَّہَ أَرْبَعِینَ سَنَۃً فِی الْبَرِّ ، ثُمَّ قَالَ : یَا رَبِّ قَدَ اشْتَقْت أَنْ أَعْبُدَک فِی الْبَحْرِ ، فَأَتَی قَوْمٌ فَاسْتَحْمَلَہُمْ فَحَمَلُوہُ ، وَجَرَتْ بِہِمْ سَفِینَتُہُمْ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ تَجْرِیَ ، ثُمَّ قَامَتْ فَإِذَا شَجَرَۃٌ فِی نَاحِیَۃِ الْمَائِ ، قَالَ : فَقَالَ : ضَعُونِی عَلَی ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ ، قَالَ : فَقَالُوا : مَا یُعَیِّشُک عَلَی ہَذِہِ ، قَالَ : إنَّمَا اسْتَحْمَلْتُکُمْ فَضَعُونِی حَیْثُ أُرِیدُ ، فَوَضَعُوہُ وَجَرَتْ بِہِمْ سَفِینَتُہُمْ ، فَأَرَادَ مَلَکٌ أَنْ یَعْرُجَ إِلَی السَّمَائِ فَتَکَلَّمَ بِکَلاَمِہِ الَّذِی کَانَ یَعْرُجُ بِہِ فَلَمْ یَقْدِرْ عَلَی ذَلِکَ ، فَعَلِمَ ، أَنَّ ذَلِکَ لِخَطِیئَۃٍ کَانَتْ مِنْہُ ، فَأَتَی صَاحِبُ الشَّجَرَۃِ فَسَأَلَہُ أَنْ یَشْفَعَ لَہُ إِلَی رَبِّہِ ، قَالَ : فَصَلَّی وَدَعَا لِلْمَلَکِ ، قَالَ وَطَلَبَ إِلَی رَبِّہِ أَنْ یَکُونَ ہُوَ یَقْبِضُ نَفْسَہُ لِیَکُونَ أَہْوَنَ عَلَیْہِ مِنْ مَلَکِ الْمَوْتِ ، فَأَتَاہُ حِینَ حَضَرَ أَجَلُہُ ، فَقَالَ : إنِّی طَلَبْت إِلَی رَبِّی أَنْ یُشَفِّعَنِی فِیک کَمَا شَفَّعَک فِی ، وَأَنْ أَکُونَ أَنَا أَقْبِضُ نَفْسَک ، فَمِنْ حَیْثُ شِئْت قَبَضْتہَا ، قَالَ : فَسَجَدَ سَجْدَۃً فَخَرَجَتْ دَمْعَۃٌ مِنْ عَیْنِہِ فَمَاتَ۔
(٣٦١٣٧) حضرت عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے چالیس سال تک خشکی میں اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے دعا کی۔ اے پروردگار ! میں سمندر میں آپ کی عبادت کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ چنانچہ کچھ لوگ آئے اور اس نے ان سے سوار کرنے کو کہا : انھوں نے اس کو (کشتی میں) سوار کرلیا۔ پھر جب تک خدا کی مشیت تھی کشتی انھیں لے کر چلتی رہی۔ پھر کشتی ٹھہر گئی۔ وہاں پانی کے کنارے میں ایک درخت تھا۔ راوی کہتے ہیں اس آدمی نے (کشی والوں سے) کہا : مجھے اس درخت کے پاس اتار دو ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : تم اس جگہ کیسے زندہ رہو گے ؟ اس نے کہا : میں نے تمہیں اجرت پر اٹھانے کو کہا تھا پس جہاں میرا دل چاہے تم مجھے وہیں اتارو۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس کو وہاں اتار دیا اور کشتی بقایا لوگوں کو لے کر پھر چل پڑی۔ پھر ایک فرشتے نے آسمان پر چڑھنا چاہا اور اس نے وہ کلمات پڑھے جن کے ذریعہ وہ آسمان پر چڑھتا تھا لیکن وہ آسمان پر نہ چڑھ سکا۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ اس کی کسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ وہ درخت والے کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے پروردگار کے پاس اس کی سفارش کرے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس آدمی نے نماز پڑھی اور فرشتے کے لیے دعا کی۔ راوی کہتے ہیں : اس عابد نے خدا سے یہ دعا بھی کی کہ اس کی روح یہ فرشتہ قبض کرے تاکہ ملک الموت سے ہلکی تکلیف ہو۔ چنانچہ جب اس آدمی کی موت آئی تو یہ فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا میں نے اپنے رب سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ تیرے بارے میں میری بھی شفاعت قبول کریں جس طرح انھوں نے میرے بارے میں تیری شفاعت قبول کی تھی اور یہ کہ میں ہی تمہاری روح قبض کروں۔ پس جیسے تم چاہو گے میں تمہاری روح قبض کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس عابد نے سجدہ کیا اور اس کی آنکھ سے آنسو نکلا اور وہ مرگیا۔