(۳۶۱۴۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ لِرَجُلٍ ثَلاَثَۃُ أَخِلاَّئِ بَعْضُہُمْ أَخَصُّ بِہِ مِنْ بَعْضٍ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ بِہِ نَازِلَۃٌ فَلَقِیَ أَخَصَّ الثَّلاَثَۃِ بِہِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا ، وَإِنِّی أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، قَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِی أَفْعَلُ ، فَانْطَلَقَ إِلَی الَّذِی یَلِیہِ فِی الْخَاصَّۃِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، فَقَالَ : أَنْطَلِقُ مَعَک حَتَّی تَبْلُغَ الْمَکَانَ الَّذِی تُرِیدُ، فَإِذَا بَلَغْتَ رَجَعْتُ وَتَرَکْتُک ، فَانْطَلَقَ إِلَی أَخَسِّ الثَّلاَثَۃِ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، إِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِی کَذَا وَکَذَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تُعِینَنِی ، قَالَ : أَنَا أَذْہَبُ مَعَک حَیْثُمَا ذَہَبْت ، وَأَدْخُلُ مَعَک حَیْثُمَا دَخَلْت ، قَالَ : فَأَمَّا الأَوَّلُ فَمَالُہُ ، خَلَفَہُ فِی أَہْلِہِ فَلَمْ یَتْبَعْہُ مِنْہُ شَیْئٌ ، وَالثَّانِی أَہْلُہُ وَعَشِیرَتُہُ ذَہَبُوا بِہِ إِلَی قَبْرِہِ ، ثُمَّ رَجَعُوا وَتَرَکُوہُ ، وَالثَّالِثُ عَمَلُہُ ہُوَ حَیْثُمَا ذَہَبَ وَیَدْخُلُ مَعَہُ حَیْثُ مَا دَخَلَ۔
(٣٦١٤٩) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے تین دوست تھے۔ ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ خاص تھے۔ آپ (رض) کہتے ہیں : پس اس آدمی پر کوئی مصیبت نازل ہوگئی۔ چنانچہ وہ اپنے دوستوں میں سے خاص ترین کو ملا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تو یہ کام نہیں کرتا۔ پس یہ آدمی اس کے بعد والے خاص دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے۔ اور میں تم سے مدد لینا پسند کرتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ وہاں تک چلوں گا جہاں تم جانا چاہو۔ پھر جب تم پہنچ جاؤ گے تو میں واپس آجاؤں گا تمہیں چھوڑ دوں گا۔ پھر یہ آدمی سب سے گھٹیا دوست کے پاس چلا گیا اور کہا : اے فلاں ! معاملہ کچھ یوں ہے کہ مجھ پر ایسی ایسی مصیبت اتری ہے میں آپ کی مدد لینا چاہتا ہوں۔ اس دوست نے کہا : میں تمہارے ساتھ جاؤں گا جہاں تم جاؤ گے اور جہاں تم داخل ہوگے وہاں میں داخل ہوگا۔ حضرت عبید فرماتے ہیں : پس پہلا دوست اس کا مال ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں میں چھوڑ دیا ہے۔ اس مال میں سے کوئی چیز اس کے پیچھے نہیں گئی۔ دوسرا دوست اس کے اہل و خاندان ہے جو اس کے ساتھ اس کی قبر تک جاتے ہیں پھر اس کو چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں۔ تیسرا دوست اس کے عمل ہیں جو اس کے ساتھ ہیں جہاں وہ جائے گا اور اس کے ساتھ اندر جائیں گے جہاں وہ داخل ہوں گے۔