(۳۶۱۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : إنَّ أَہْلَ الْقُبُورِ لَیَتَوکَّفُونَ لِلْمَیِّتَ کَمَا یُتَلَقَّی الرَّاکِبُ یَسْأَلُونَہُ ، فَإِذَا سَأَلُوہُ مَا فَعَلَ فُلاَنٌ مِمَّنْ قَدْ مَاتَ ، فَیَقُولُ : أَلَمْ یَأْتِکُمْ ، فَیَقُولُونَ : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ذُہِبَ بِہِ إِلَی أُمِّہِ الْہَاوِیَۃِ۔
(٣٦١٥٣) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ قبروں والے بھی میت کا اس طرح استقبال کرتے ہیں جس طرح کسی سوار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے سوال کرتے ہیں۔ پس جب وہ اس سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا ہوا ؟ جو لوگ مرگئے ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ تو یہ میت کہتا ہے کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا۔ اس پر وہ کہتے ہیں : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ اس کو اس کے ٹھکانا ہاویہ کی طرف لے جایا گیا۔