(۳۶۱۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ اللَّہُ أَنْ یَہْلِکَ أَصْحَابَ الْفِیلِ بَعَثَ عَلَیْہِمْ طَیْرًا أُنْشِئَتْ مِنَ الْبَحْرِ أَمْثَالَ الْخَطَاطِیفِ کُلُّ طَیْرٍ مِنْہَا یَحْمِلُ ثَلاَثَۃَ أَحْجَارٍ مُجَزَّعَۃٍ : حَجَرَیْنِ فِی رِجْلَیْہِ وَحَجَرًا فِی مِنْقَارِہِ ، قَالَ فَجَائَتْ حَتَّی صَفَّتْ عَلَی رُؤُوسہمْ ، ثُمَّ صَاحَتْ وَأَلْقَتْ مَا فِی أَرْجُلِہَا وَمَنَاقِیرِہَا ، فَمَا یَقَعُ حَجَرٌ عَلَی رَأْسِ رَجُلٍ إِلاَّ خَرَجَ مِنْ دُبُرِہِ ، وَلاَ یَقَعُ عَلَی شَیْئٍ مِنْ جَسَدِہِ إِلاَّ خَرَجَ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ ، قَالَ : وَبَعَثَ اللَّہُ رِیحًا شَدِیدَۃً فَضَرَبَتِ الْحِجَارَۃَ فَزَادَتْہَا شِدَّۃً فَأُہْلِکُوا جَمِیعًا۔
(٣٦١٦١) حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان پر سمندر سے پیدا کردہ ابابیلوں کے مثل پرندے بھیجے۔ ان میں سے ہر ایک پرندے نے تین سفید و سیاہ پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ دو پتھر اس کے پنجوں میں اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ آپ (رض) فرماتے ہیں : پس یہ پرندے آئے۔ یہاں تک کہ انھوں نے ان اصحاب الفیل کے سروں پر صف بنا لی پھر چیخ ماری اور اپنی چونچوں اور پنجوں میں موجود پتھروں کو گرا دیا۔ جو پتھر بھی کسی آدمی کے سر پر لگتا وہ اس کی دبر سے باہر نکل آتا اور جسم کے جس حصہ پر بھی پڑتا دوسرے حصہ سے باہر آجاتا۔ راوی کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے شدید ہوا بھیجی جو پتھروں پر لگی تو اس نے (ان کی) شدت کو اور زیادہ کردیا پس وہ سارے لوگ ہلاک ہوگئے۔