(۳۶۱۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃ ، قَالَ : دَعَانِی خَیْثَمَۃُ ، فَلَمَّا جِئْت إذَا أَصْحَابُ الْعَمَائِمِ وَالْمَطَارِفِ عَلَی الْخَیْلِ ، فَحَقَّرْت نَفْسِی فَرَجَعْت ، قَالَ: فَلَقِیَنِی بَعْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ: مَا لَک لَمْ تَجِئْ، قَالَ ، قُلْتُ : قَدْ جِئْت وَلَکِنْ قَدْ رَأَیْت أَصْحَابَ الْعَمَائِمِ وَالْمَطَارِفِ عَلَی الْخَیْلِ فَحَقَّرْت نَفْسِی ، قَالَ : فَأَنْتَ وَاللہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْہُمْ ، قَالَ : وَکُنَّا إذَا دَخَلْنَا عَلَیْہِ ، قَالَ بِالسَّلَّۃِ مِنْ تَحْتِ السَّرِیرِ ، وَقَالَ : کُلُوا وَاللہِ مَا أَشْتَہِیہِ ، وَلاَ أَصْنَعُہُ إِلاَّ لَکُمْ۔
(٣٦١٦٥) حضرت اعمش، حضرت خیثمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت خیثمہ نے بلایا۔ جب میں آیا تو کچھ دستار اور شال والے لوگ گھوڑوں پر آئے۔ میں نے اپنے کو حقیر سمجھا اور واپس ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے بعد آپ کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو فرمایا : تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں آئے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا : میں تو آیا تھا لیکن میں نے دستار اور شال والے لوگ دیکھے جو گھوڑوں پر سوار تھے تو میں نے اپنے آپ کو حقیر جانا۔ اس پر حضرت خیثمہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! تم مجھے ان سے زیادہ محبوب ہو۔ راوی کہتے ہیں : جب ہم لوگ حضرت خیثمہ کے پاس جاتے تھے تو وہ اپنے تخت کے نیچے سے ایک ٹوکری نکالتے اور فرماتے : کھاؤ، خدا کی قسم ! مجھے اس کی خواہش نہیں ہوتی لیکن میں یہ تمہارے لیے تیار کرتا ہوں۔