(۳۶۱۹۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْجُرَیْرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : إنَّ مِنْ خَیْرِ الْعَمَلِ سُبْحَۃَ الْحَدِیثِ ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ الْعَمَلِ التَّجْدِیفَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَان ، وَمَا سُبْحَۃُ الْحَدِیثِ ، قَالَ : تَسْبِیحُ الرَّجُلِ وَالْقَوْمُ یَتَحَدَّثُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا التَّجْدِیفَ ، قَالَ : یَکُونُ الْقَوْمُ بِخَیْرٍ فَإِذَا سُئِلُوا ، قَالُوا : بِشَرٍّ۔
(٣٦١٩٢) حضرت کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اعمال میں سے بہترین عمل سبحۃ الحدیث ہے اور اعمال میں سے بدترین عمل تجدیف ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اے ابوعبدالرحمن ! سبحۃ الحدیث کیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : آدمی تسبیح کرے جبکہ باقی لوگ باتیں کررہے ہوں۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا : تجدیف کیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : لوگ خیر کے ساتھ ہوں لیکن جب سوال کیا جائے تو شر کا جواب دیں۔