(۳۶۱۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَی لَہُ مِنَ النَّارِ مِنْ ذِکْرِ اللہِ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَلاَ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ ، قَالَ : وَلاَ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللہِ ، إلا أن تَضْرِبُ بِسَیْفِکَ حَتَّی یَنْقَطِعَ ، ثُمَّ تَضْرِبُ بِہِ حَتَّی یَنْقَطِعَ ثَلاَثًا۔
(٣٦١٩٤) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ابن آدم کا کوئی عمل ذکر اللہ سے بڑھ کر اس کو آگ سے نجات دینے والا نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ 5! نہ ہی جہاد فی سبیل اللہ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہ ہی جہاد فی سبیل اللہ۔ مگر یہ کہ تو اپنی تلوار سے مارتا رہے یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے۔ پھر تو (دوسری تلوار) مارتا رہے یہاں تک کہ وہ بھی ٹوٹ جائے۔ تین مرتبہ یہ بات فرمائی۔