(۳۶۲۴۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : ذَکَرَ أَبُو إسْرَائِیلَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ بَذِیمَۃَ، قَالَ : رَأَیْتہ بِالْمَدِینَۃِ وَہُوَ أَحْسَنُ النَّاسِ لِبَاسًا وَأَطْیَبُ النَّاسِ رِیحًا وَمِنْ أَخْیَل النَّاسِ فِی مِشْیَتِہِ ، أَوْ أَخْیَلَ النَّاسِ فِی مِشْیَتِہِ ، ثُمَّ رَأَیْتہ بَعْدُ یَمْشِی مِشْیَۃَ الرُّہْبَانِ ، فَمَنْ حَدَّثَک أَنَّ الْمَشْیَ سَجِیَّۃٌ فَلاَ تُصَدِّقْہُ بَعْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔
(٣٦٢٤٧) حضرت علی بن بذیمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مدینہ میں دیکھا تھا۔ وہ سب سے خوبصورت لباس والے تھے۔ اور سب سے عمدہ خوشبو والے تھے۔ اور اپنی چال میں سب سے زیادہ نخرے والے تھے۔ پھر میں نے ان کو اس کے بعد راہبوں کی سی چال چلتے (بھی) دیکھا ہے۔ پس جو شخص تمہیں یہ کہے کہ چال انسان کی فطری عادت ہے تو اس کی عمر بن عبد العزیز کے بعد تصدیق نہ کرنا۔