(۳۶۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَمَّ مُعَاذٌ قَوْمًا فِی صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ ، فَمَرَّ بِہِ غُلاَمٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَہُوَ یَعْمَلُ عَلَی بَعِیرٍ لَہُ ، فَأَطَالَ بِہِمْ مُعَاذٌ ، فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ الْغُلاَمُ تَرَکَ الصَّلاَۃَ وَانْطَلَقَ فِی طَلَبِ بَعِیرِہِ ، فَرُفِعَ ذَلِکَ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَامُعَاذُ؟ أَلاَّ یَقْرَأُ أَحَدُکُمْ فِی الْمَغْرِبِ بِـ: {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَ {الشَّمْسِ وَضُحَاہَا}۔
(بخاری ۷۰۵۔ مسلم ۱۷۸)
(٣٦٢٥) حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے کچھ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی، اتنے میں انصار کا ایک غلام جو اپنے اونٹ کا کچھ کام کررہا تھا وہاں سے گذرا اور جماعت میں شریک ہوگیا۔ حضرت معاذ نے قراءت بہت لمبی کردی، جس کی وجہ سے وہ غلام نماز توڑ کر اپنے اونٹ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ جب یہ بات نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا ” اے معاذ ! کیا تم لوگوں کو دین سے دور کرنا چاہتے ہو ! تم میں سے کوئی مغرب میں سورة الاعلیٰ اور سورة الشمس نہ پڑھے “