(۳۶۲۸۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّف قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ لَمْ یَتَحَابَّ رَجُلاَنِ فِی اللہِ إِلاَّ کَانَ أَفْضَلَہُمَا أَشَدُّہُمَا حُبًّا لِصَاحِبِہِ ، قَالَ : فَلَمَّا سُیِّرَ مَذْعُورٌ ، وعَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: لَقِیَ مَذْعُورٌ مُطَرِّفًا فَجَعَلَ یُذَاکِرُہُ ، قَالَ مُطَرِّفٌ : فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَیْ أَخِی ، عَلاَمَ تَحْبِسُنِی وَقَدْ تَہَوَّرَتِ النُّجُومُ ، وَذَہَبَ اللَّیْلُ ، فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ فِیک ، ثم یُذَاکِرْہُ السَّاعَۃَ فَیَقُولُ : یَا أَخِی ، عَلاَمَ تَحْبِسُنِی وَقَدْ تَہَوَّرَتِ النُّجُومُ ، وَذَہَبَ اللَّیْلُ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ فِیک ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا أُخْبِرْت أَنَّہُ قَدْ سُیِّرَ ، فَعَرَفْت لَیْلَتَہ فَضْلَہُ عَلَیَّ۔
(٣٦٢٨٥) حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں یہ بات کرتے تھے کہ باہم اللہ کے لیے محبت کرنے والے دو آدمیوں میں سے افضل آدمی وہ ہوتا ہے جو ان دونوں میں سے اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں : چنانچہ جب حضرت مذعور اور حضرت عامر بن عبداللہ کو جلا وطن کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت مذعور، حضرت مطرف سے ملے اور ان سے مذاکرہ شروع کردیا۔ حضرت مطرف کہتے ہیں۔ میں کہنے لگا۔ اے میرے بھائی ! تم نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے۔ جبکہ ستارے ڈوب گئے اور رات جا رہی ہے ؟ وہ فرمانے لگے۔ اے اللہ ! تیرے لیے پھر انھوں نے حضرت مطرف سے ایک گھڑی اور مذاکرہ کیا۔ مطرف نے پھر کہا۔ اے میرے بھائی ! آپ نے مجھے کس وجہ سے روک رکھا ہے جبکہ ستارے ڈوب چکے ہیں اور رات جا رہی ہے ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ ! تیرے لیے۔ پھر جب ہم نے صبح کی تو مجھے خبر ملی کہ وہ چلے گئے ہیں۔ تب میں نے ان کی خود پر رات کی فضیلت پہچانی۔