(۳۶۲۸۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَہْدِیٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ ، عَنْ مُطَرِّفَ قَالَ : رَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ کَأَنِّی خَرَجْت أُرِیدُ الْجُمُعَۃَ ، فَأَتَیْت عَلَی مَقَابِرَ مِنَ الْحَی ، فَإِذَا أَہْلُ الْقُبُورِ جُلُوسٌ ، فَجَعَلْتُ أُسَلِّمُ وَأَمْضِی ، قَالُوا : یَا عَبْدَ اللہِ ، أَیْنَ تُرِیدُ ، قَالَ : قُلْتُ : أُرِیدُ الْجُمُعَۃَ ، قَالَ : ثُمَّ قُلْتُ : تَدْرُونَ مَا الْجُمُعَۃُ ، قَالُوا : نَعَمْ وَنَعْلَمُ مَا یَقُولُ الطَّیْرُ یَوْمَئِذٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا یَقُولُ الطَّیْرُ یَوْمَئِذٍ ، قَالُوا : یَقُولُ : سَلاَمٌ سَلاَمٌ یَوْمٌ صَالِحٌ۔
(٣٦٢٨٨) حضرت مطرف سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میں جمعہ کے ارادے سے باہر نکلا ہوں اور میں محلہ کے قبرستان کے پاس آیا تو دیکھا کہ اہل قبور بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے ان کو سلام کرکے گزرنا چاہا تو وہ کہنے لگے۔ اے عبداللہ ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا۔ میرا جمعہ کا ارادہ ہے۔ مطرف کہتے ہیں پھر میں نے پوچھا : تمہیں معلوم ہے جمعہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دن پرندے کیا کہتے ہیں۔ مطرف کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا : پرندے اس دن کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے کہا : پرندے کہتے ہیں۔ سلام، سلام، اچھا دن ہے۔