(۳۶۳۰۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَہْدِیُّ بْنُ مَیْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَیْلاَنُ بْنُ جَرِیرٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : وَکَانُوا یَجْتَمِعُونَ ہُوَ وَإِخْوَانُہُ وَیَتَحَدَّثُونَ فَلاَ یَرَوْنَ تِلْکَ الرِّقَّۃَ ، قَالَ : فَیَقُولُونَ : یَا صَفْوَانُ ، حَدِّثْ أَصْحَابَک ، قَالَ : فَیَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ ، قَالَ : فَیَرِقُّ الْقَوْمُ وَتَسِیلُ دُمُوعُہُمْ کَأَنَّہَا أَفْوَاہُ الْمَزَادۃ۔
(٣٦٣٠٠) حضرت غیلان بن جریر، حضرت صفوان بن محرز کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت صفوان اور ان کے بھائی اکٹھے ہوتے اور باہم گفتگو کرتے۔ لیکن وہ رقت کے آثار نہ دیکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ کہتے۔ اے صفوان ! آپ اپنے ساتھیوں سے کوئی گفتگو کریں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت صفوان کہتے۔ الحمد للہ۔ اس پر لوگوں پر رقت طاری ہوجاتی اور ان کے آنسو یوں بہہ پڑتے۔ گویا کہ مشکیزوں کے منہ ہیں۔