(۳۶۳۱۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ ابْنَ مُنَبِّہٍ کَانَ یَقُولُ : أَعْوَنُ الأَخْلاَقِ عَلَی الدِّینِ الزَّہَادَۃُ فِی الدُّنْیَا ، وَأَوْشَکُہَا رَدًی اتِّبَاعُ الْہَوَی ، وَمِنَ اتِّبَاعِ الْہَوَی الرَّغْبَۃُ فِی الدُّنْیَا ، وَمِنَ الرَّغْبَۃِ فِی الدُّنْیَا حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ ، وَمِنْ حُبِّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ اسْتِحْلاَلُ الْمَحَارِمِ ، وَمِنَ اسْتِحْلاَلِ الْمَحَارِمِ یَغْضَبُ اللَّہُ ، وَغَضَبُ اللہِ الدَّائُ الَّذِی لاَ دَوَائَ لَہُ إِلاَّ رِضْوَانَ اللہِ ، وَرِضْوَانُ اللہِ دَوَائٌ لاَ یَضُرُّ مَعَہُ دَائٌ ، وَمَنْ یُرِیدُ أَنْ یُرْضِیَ رَبَّہُ یُسْخِطُ نَفْسَہُ ، وَمَنْ لاَ یُسْخِطُ نَفْسَہُ لاَ یُرْضِی رَبَّہُ ، إنْ کَانَ کُلَّمَا ثَقُلَ عَلَی الإِنْسَاْن شَیْئٌ مِنْ دِینِہِ تَرَکَہُ أَوْشَکَ أَنْ لاَ یَبْقَی مَعَہُ شَیْئٌ۔
(٣٦٣١٦) حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ حضرت ابن منبہ کہا کرتے تھے۔ اخلاق میں سے سب سے بڑا معاون دین کے لیے دنیا میں بےرغبتی ہے۔ اور دین کے لیے سب سے زیادہ ردی بات، خواہشات کی پیروی ہے۔ اور خواہشات کی پیروی سے دنیا میں رغبت ہے اور دنیا میں رغبت سے مال وجاہ کی محبت ہے اور مال وجاہ کی محبت سے حرام کا حلال سمجھنا ہے اور حرام کو حلال سمجھنے سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں اور غضب خداوندی ایسی بیماری ہے جس کی رضا خداوندی کے علاوہ کوئی دوائی نہیں ہے۔ یہ ایسی دوا ہے جس کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی جو آدمی اپنے رب کو راضی کرنا چاہتا ہے وہ اپنے نفس کو ناراض کرے اور جو اپنے نفس کو ناراض نہیں کرتا۔ وہ اپنے رب کو راضی نہیں کرپاتا۔ اگر انسان دین کی بوجھ محسوس ہونے والی چیز چھوڑ دے گا تو قریب ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔