(۳۶۳۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَنْ لاَ أَتَّہِمُ ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّہٍ ، أَنَّہُ جَلَسَ ہُوَ وَطَاوُسٌ وَنَحْوُہُمَا مِنْ أَہْلِ ذَلِکَ الزَّمَانِ فَذَکَرُوا أَیُّ أَمْرِ اللہِ أَسْرَعُ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ : قَوْلُ اللہِ کَلَمْحِ الْبَصَرِ ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ : السَّرِیرُ حِینَ أُتِیَ بِہِ سُلَیْمَانُ ، فَقَالَ : ابْنُ مُنَبِّہٍ : أَسْرَعُ أَمْرِ اللہِ ، أَنَّ یُونُسَ عَلَی حَافَّۃِ السَّفِینَۃِ إذْ أَوْحَی اللَّہُ إِلَی نُونٍ فِی نِیلِ مِصْرَ ، قَالَ : فَمَا خَرَّ مِنْ حَافَّتِہَا إِلاَّ فِی جَوْفِہِ۔
(٣٦٣٢٣) حضرت ابن منبہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ، طاؤس اور ان جیسے اور اس زمانہ کے لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے آپس میں اس بات کا ذکر چھیڑا کہ کون سا امر خداوندی سب سے تیز تھا ؟ تو ان میں سے بعض نے کہا : ارشاد خداوندی کَلَمْحِ الْبَصَرِ اور بعض نے کہا۔ تخت جب حضرت سلیمان کے پاس لایا گیا اس پر حضرت ابن منبہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حکموں میں سے تیز ترین یہ تھا کہ حصرت یونس، کشتی کے کنارے پہ تھے جب اللہ تعالیٰ نے مصر کے نیل کی مچھلی کو حکم دیا۔ ابن منبہ کہتے ہیں۔ پس وہ کشتی کے کنارے سے مچھلی کے پیٹ میں جا کر گرے۔