(۳۶۳۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : بَلَغَنِی ، أَنَّ فِی کِتَابِ اللہِ : ابْنَ آدَمَ ثِنْتَانِ جَعَلْتُہُمَا لَک وَلَمْ یَکُونَا لَک : وَصِیَّۃٌ فِی مَالِکَ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ صَارَ الْمِلْکُ لِغَیْرِکَ ، وَدَعْوَۃُ الْمُسْلِمِینَ لَک وَأَنْتَ فِی مَنْزِلٍ لاَ تَسْتَعْتِبُ فِیہِ مِنْ سء ، وَلاَ تَزِیدُ فِی حَسَنٍ۔
(٣٦٣٥٤) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی کہ اللہ کی (کسی) کتاب میں ہے آدم کے بیٹے ! میں نے دو چیزیں تیرے لیے کردی ہیں لیکن وہ تیرے لیے نہیں ہیں۔ تیرے مال میں معروف طریقہ سے وصیت۔ جبکہ ملکیت غیر کو حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کا تیرے لیے دعا کرنا۔ جبکہ تو ایسی جگہ ہوتا ہے نہ تو تو کسی برائی کی وجہ سے تھکتا ہے اور نہ کسی اچھائی میں بڑھتا ہے۔