(۳۶۳۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إنَّ الْمُؤْمِنَ قَوَّامٌ عَلَی نَفْسِہِ یُحَاسِبُ نَفْسَہُ لِلَّہِ ، وَإِنَّمَا خَفَّ الْحِسَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی قَوْمٍ حَاسَبُوا أَنْفُسَہُمْ فِی الدُّنْیَا ، وَإِنَّمَا شَقَّ الْحِسَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی قَوْمٍ أَخَذُوا ہَذَا الأَمْرَ عن غَیْرِ مُحَاسَبَۃٍ ، إنَّ الْمُؤْمِنَ یَفْجَؤُہُ الشَّیْئُ فَیُعْجِبُہُ فَیَقُولُ : وَاللہِ إنِّی لأشْتَہِیک وَإِنَّک لَمِنْ حَاجَتِی ، وَلَکِنْ وَاللہِ مَا مِنْ وُصْلَۃٍ إلَیْک ، ہَیْہَاتَ حِیلَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ ، وَیَفْرُطُ مِنْہُ الشَّیْئُ فَیَرْجِعُ إِلَی نَفْسِہِ فَیَقُولُ : مَا أَرَدْت إِلَی ہَذَا ، مَا لِی وَلِہَذَا ، مَا لِی عدد غیر ہذا وَاللہِ لاَ أَعُودُ إِلَی ہَذَا أَبَدًا إنْ شَائَ اللَّہُ ، إنَّ الْمُؤْمِنِینَ قَوْمٌ أَوْثَقَہُمُ الْقُرْآنُ وَحَالَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ ہَلَکَتِہِمْ ، إنَّ الْمُؤْمِنَ أَسِیرٌ فِی الدُّنْیَا یَسْعَی فِی فِکَاکِ رَقَبَتِہِ ، لاَ یَأْمَنُ شَیْئًا حَتَّی یَلْقَی اللَّہَ ، یَعْلَمُ أَنَّہُ مَأْخُوذٌ عَلَیْہِ فِی ذَلِکَ کُلِّہِ۔
(٣٦٣٥٧) حضرت حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک مومن اپنے نفس پر نگران ہوتا ہے اور وہ خدا کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ اور قیامت کے دن حساب انہی لوگوں پر ہلکا ہوگا جو دنیا میں اپنے نفسوں کا محاسبہ کریں گے اور قیامت کے دن حساب انہی لوگوں پر مشکل ہوگا جو اس بات کا محاسبہ نہیں کرتے۔ بیشک مومن کے پاس کوئی چیز اچانک آتی ہے تو وہ اس کو اچھی لگتی ہے اور وہ کہتا ہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تمہاری چاہت تھی۔ اور بیشک تم میری ضرورت کی چیز ہو۔ لیکن خدا کی قسم ! تیری طرف کوئی رابطہ نہیں تھا۔
اور ایمان والے سے کوئی چیز ضائع ہوتی ہے تو وہ اپنے نفس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے۔ میں نے تو اس کا ارادہ نہیں کیا تھا ؟ مجھے اس سے کیا غرض ہے ؟ میرے پاس اس کے علاوہ بھی ایک تعداد ہے۔ خدا کی قسم ! میں اس کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ یقیناً اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کو قرآن نے پختہ کیا ہے اور ان کے اور ان کے ہلاک شدہ سامان کے درمیان حائل ہے۔ مومن دنیا میں قیدی ہوتا ہے جو اپنی گردن چھڑانے میں کوشاں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ملنے تک کسی شے سے مامون نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ اس سب میں قابل مواخذہ ہے۔